بھارت میں نوجوانوں اور طلبہ کی ایک ابھرتی ہوئی تحریک حکومت کے لیے ایک اہم سیاسی چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ “کاکروچ جنتا پارٹی” (سی جے پی) کے زیرِ اہتمام جاری احتجاجی مہم کو ملک بھر میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔بین الاقوامی میڈیا ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق نئی دہلی میں جاری دھرنا اس وقت تک ختم نہیں کیا جائے گا جب تک وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی نہیں ہو جاتے۔ شدید گرمی کے باوجود مظاہرین سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر راتیں گزار کر احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔سی جے پی کے بانی ابھیجت دیپکے نے سوشل میڈیا پر شروع ہونے والی مہم کو زمینی احتجاج میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک ہونے اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے باعث نوجوانوں میں بے چینی اور غصے میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔انڈیا ٹوڈے کے مطابق ابھیجت دیپکے نے کسانوں سے بھی اس تحریک کی حمایت کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں طلبہ نے کسانوں کی جدوجہد کا ساتھ دیا تھا، اس لیے اب کسانوں کو بھی طلبہ کے مطالبات کی حمایت کرنی چاہیے۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ احتجاج بھارتی نوجوانوں میں موجود معاشی اور سماجی مسائل کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ بعض مبصرین اسے جنوبی ایشیا میں ابھرنے والی دیگر عوامی تحریکوں کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔