کمبوڈیا میں تیزی سے پھیلتی ہوئی سائبر فراڈ انڈسٹری نے دنیا بھر کے شہریوں، خصوصاً نوجوانوں کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا ہے۔رپورٹس کے مطابق ملک کے متعدد علاقوں میں بڑے بڑے “اسکام سینٹرز” اور خفیہ کمپاؤنڈز قائم کیے گئے ہیں، جہاں منظم انداز میں آن لائن دھوکہ دہی (سائبر فراڈ) کا وسیع نیٹ ورک چلایا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق یہ گروہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور جعلی ویب سائٹس کے ذریعے پرکشش ملازمتوں، بھاری تنخواہوں اور روشن مستقبل کے خواب دکھا کر افراد کو کمبوڈیا آنے پر آمادہ کرتے ہیں۔اطلاعات ہیں کہ متاثرہ افراد کو کمبوڈیا پہنچنے کے بعد مختلف پابندیوں اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ بعض کیسز میں انہیں سائبر فراڈ کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ماہرین نے نوجوانوں کو خبردار کیا ہے کہ بیرون ملک ملازمت کی کسی بھی پیشکش پر یقین کرنے سے پہلے متعلقہ کمپنی، ویب سائٹ اور بھرتی کے عمل کی مکمل جانچ پڑتال ضرور کریں تاکہ دھوکہ دہی اور انسانی استحصال سے بچا جا سکے۔