بیروت: جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایک بریگیڈیئر جنرل سمیت کم از کم 12 افراد شہید ہو گئے، جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مشروط جنگ بندی پر مذاکرات کے چند روز بعد اسرائیل نے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں فضائی اور زمینی حملے کیے۔ لبنانی فوج کے مطابق الخردلی۔نبطیہ شاہراہ پر ایک فوجی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ایک بریگیڈیئر جنرل، ایک کیپٹن اور ایک فوجی شہید ہو گئے۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ حملہ ایک “فعال جنگی علاقے” میں کیا گیا اور اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔لبنانی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کی بار بار کی جارحیت کا مقصد امن اور حل کی تمام کوششوں کو سبوتاژ کرنا ہے۔ لبنان کے صدر Joseph Aoun نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔وزیراعظم Nawaf Salam نے بھی حملے کو ایک گھناؤنا جرم قرار دیتے ہوئے شہید فوجی افسران اور اہلکاروں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔بعد ازاں لبنانی فوج نے اعلان کیا کہ آرمی چیف Rodolphe Haykal پاکستان کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ Asim Munir سے ملاقات کریں گے۔اسرائیلی حملے پر Saudi Arabia، Jordan اور Qatar نے بھی تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے، جبکہ United Nations کی امن فورس نے اسے عالمی قوانین کی واضح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔رپورٹس کے مطابق Saksakiyeh کے علاقے میں بھی اسرائیلی حملے میں 6 لبنانی شہری شہید ہوئے، جبکہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں مزید 150 اہداف کو نشانہ بنایا۔