ایران نے شہید رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں شروع کر دیں

ایرانی حکام نے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی شہادت کے تین ماہ سے زائد عرصے بعد ان کی تدفین کے انتظامات اور جنازے کی تقریبات کے منصوبوں کا اعلان کر دیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کے نائب میئر محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ رہبرِ اعلیٰ کے جنازے اور تدفین کی تقریبات اسلامی مہینے محرم کے آغاز پر منعقد کی جائیں گی۔ سرکاری سوگ اور جنازے کی تقریبات تہران، قم اور مشہد میں ہوں گی، جبکہ تدفین مشہد میں واقع امام رضاؑ کے روضے میں کی جائے گی۔توکلی زادہ کے مطابق مرحوم رہبرِ اعلیٰ نے اپنی زندگی میں امام رضاؑ کے روضے میں تدفین کی وصیت کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ تین روزہ سوگ اور جنازے کے پروگرام ترتیب دیے گئے ہیں اور تہران میں ہونے والی مرکزی تقریب میں ایک کروڑ پچاس لاکھ سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے۔حکام کے مطابق جنازے کی مرکزی تقریب کم از کم 24 گھنٹے جاری رہے گی جبکہ پاکستان، افغانستان، بھارت اور بنگلادیش سمیت مختلف ممالک سے لاکھوں زائرین اور سوگواروں کی آمد بھی متوقع ہے۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی صورتحال کے باعث ابتدائی طور پر بڑے پیمانے پر جنازے کی تقریبات مؤخر رکھی گئی تھیں، تاہم اب ان کے انعقاد کی تیاریاں تیزی سے جاری ہیں۔