ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے ملک بھر میں جعلی ادویات کے خلاف کارروائیاں تیز کرتے ہوئے تین ادویات کے جعلی بیچز کے حوالے سے ریپڈ الرٹس جاری کر دیے ہیں اور ان کی فروخت و استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ سینٹرل ڈرگ لیبارٹری کراچی اور ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری پنجاب کی رپورٹس میں متعدد ادویات کو جعلی قرار دیا گیا ہے، جن میں تسکین درد گولی بیچ نمبر 091 اور پین نل گولی بیچ نمبر 01 شامل ہیں۔الرٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ ادویات لیو ہیلتھ کیئر لیب اور حکیم پرانا دواخانہ کراچی کی جانب سے غیر قانونی طور پر تیار اور سپلائی کی گئیں، جبکہ متعلقہ اداروں کے پاس دواسازی کا کوئی لائسنس موجود نہیں تھا۔اسی طرح معدے کے امراض کے لیے استعمال ہونے والے معروف برانڈ ڈوپھالیک سیرپ کا بیچ نمبر 251986 بھی جعلی قرار دیا گیا ہے۔ جعلی سیرپ کے لیبل پر ملٹی نیشنل کمپنی ایبٹ فارما کینیڈا کا پتہ درج تھا، تاہم ڈوپھالیک سیرپ تیار کرنے والی کمپنی ہائی نون فارما نے متاثرہ بی سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ڈریپ نے خبردار کیا ہے کہ جعلی ادویات کا استعمال انسانی جان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور علاج کے مطلوبہ نتائج بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔اتھارٹی نے اپنی ریگولیٹری فورس کو ہدایت دی ہے کہ مارکیٹ میں جعلی ادویات کے سپلائرز کی نشاندہی کی جائے اور متاثرہ بیچز کو فوری طور پر ضبط کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈسٹری بیوٹرز اور میڈیکل اسٹورز کو بھی فوری آگاہی دینے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ عوام کو محفوظ اور معیاری ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔