نجی یونیورسٹی کی طالبہ فاطمہ کی دونوں ٹانگوں کا کامیاب آپریشن حالت میں بہتری کی امید

لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں خودکشی کی کوشش کرنے والی فرسٹ ایئر فارمیسی کی طالبہ فاطمہ کی دونوں ٹانگوں کا کامیاب آپریشن کر دیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی حالت میں بہتری کی امید بڑھ گئی ہےطالبہ نے چوتھی منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں اسے شدید چوٹیں آئیں اور فوری طور پر جنرل اسپتال کے آئی سی یو میں منتقل کیا گیا اسپتال ذرائع کے مطابق 4 رکنی میڈیکل بورڈ نے ایمرجنسی آرتھو آپریشن کیا، جس میں پروفیسر جودت سلیم، پروفیسر شہزاد حسین، ڈاکٹر شبیرا احمد اور ڈاکٹر طاہر شامل تھے۔ذرائع نے بتایا کہ طالبہ کی ریڑھ کی ہڈی پر بھی گہری چوٹ آئی ہے، جو خطرناک ثابت ہو سکتی تھی، تاہم دونوں ٹانگوں کا آپریشن کامیاب رہا ہے۔پروفیسر جودت سلیم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ طالبہ کو شدید ہیڈ انجری تھی، تاہم اب اس کی حالت پہلے سے بہتر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل ٹیم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے طالبہ کو صدمے کی کیفیت سے نکالا اور فی الحال فوکس برین انجری کے علاج پر ہے۔یاد رہے کہ یونیورسٹی آف لاہور میں 19 دسمبر کو ڈی فارمیسی کے طالبعلم اویس نے بھی اسی مقام سے چھلانگ لگا کر جان دے دی تھی، جس کی وجوہات تاحال سامنے نہیں آ سکیں۔حالیہ واقعے کے بعد یونیورسٹی کے طلبہ سراپا احتجاج ہیں اور ان کا الزام ہے کہ فاطمہ اور اویس یونیورسٹی کی پالیسیوں سے دلبرداشتہ ہو کر یہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوئے۔