رشوت لینا اور دینا ہر معاشرے میں ایک قابلِ مذمت عمل سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود بدعنوانی کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ بھارت میں پیش آیا، جہاں ایک پولیس اہلکار کو صرف دو ہزار روپے رشوت لینے پر چار سال قید کی سزا بھگتنا پڑ گئی۔ مدھیہ پردیش پولیس کے کانسٹیبل وویک ساہو کو چیک باؤنس کیس میں رشوت لینے کے جرم میں ٹرائل کورٹ نے انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کے تحت چار سال قید کی سزا سنائی تھی۔ ملزم نے اس فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا، تاہم عدالت عالیہ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اس کے ضمانتی مچلکے منسوخ کر دیے اور اسے فوری طور پر جیل بھیج دیا۔رپورٹ کے مطابق کانسٹیبل وویک ساہو نے دیوی سنگھ نامی شخص کو چیک باؤنس کیس میں گرفتار کرنے کی دھمکی دے کر دو ہزار روپے رشوت طلب کی تھی۔ متاثرہ شخص نے اس معاملے کی شکایت لوک آیکت سے کی، جس کے بعد کارروائی کرتے ہوئے لوک آیکت نے پولیس اہلکار کو رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔عدالتی فیصلے کو بدعنوانی کے خلاف ایک سخت اور واضح پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔