نوزیر دفاع خواجہ آصفے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے مذاکرات کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا اپنی ذات کے سوا کوئی ایجنڈا نہیں، اس لیے ان سے مفاہمت یا گفتگو ممکن نظر نہیں آتیاعتراض ہے میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف۔ نے کہا کہ پانچ بڑوں کی بیٹھک کے لیے دیانت داری اور واضح ایجنڈا ضروری ہوتا ہے، جبکہ پی ٹی آئی اس وقت مختلف رنگ دکھا رہی ہے، پارٹی کے اندر کچھ لوگ مذاکرات اور کچھ تصادم کی بات کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مفاہمت کے لیے یہ طے ہونا چاہیے کہ ایجنڈا کون بنائے گا، بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے کوئی گارنٹی دینے کو تیار نہیں۔ اگر میری پارٹی بھی پی ٹی آئی سے مذاکرات کرے گی تو میں اس کے خلاف آواز اٹھاؤں گا۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں لگتا کہ پی ٹی آئی مذاکرات میں کوئی پیش رفت کر سکے گی۔ محمود اچکزئی بڑے اعتماد سے بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے باتیں کر رہے ہیں، اگلے سیشن میں ان سے ضرور پوچھوں گا کہ یہ اعتماد کس بنیاد پر ہےخواجہ آصف نے کہا کہ گزشتہ دو سال سے وفاق پر حملے کی باتیں ہو رہی ہیں، اگر فضا بہتر بنانا چاہتے ہیں تو تشدد اور وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی کی دھمکیاں دینا بند کرنا ہوں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے جوان شہید ہوئے مگر پی ٹی آئی کا کوئی لیڈر ان کے گھروں تک نہیں گیا۔ جو لوگ شہداء کے خون کے ساتھ کھڑے نہیں، ان سے مذاکرات کیسے ممکن ہیں۔9 مئی کے واقعات پر بات کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت نے آج تک اس واقعے کی کھل کر مذمت نہیں کی، نہ معذرت کی گئی، جبکہ لوگوں کو اکسانے والے آج بھی اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں افغانستان سے متعلق سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ کابل حکومت یہ گارنٹی دینے کو تیار نہیں کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے پیچھے افغان حکومت کی خاموش حمایت موجود ہے۔پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مئی میں بھارتی جارحیت کا جو جواب پاک فوج نے دیا، بھارت آج تک اس کے زخم سہلا رہا ہے، جبکہ کے پی حکومت اس پر بھی کھل کر مذمت نہیں کرتی۔