پنجاب کے مختلف علاقے آج بھی شدید فضائی آلودگی کی لپیٹ میں ہیں جبکہ وسطی پنجاب کی فضا انتہائی مضرِ صحت قرار دی جا رہی ہے۔ موسم میں تبدیلی کے ساتھ ہی اسموگ نے ایک بار پھر شدت اختیار کر لی ہے اور لاہور مسلسل دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں ٹاپ 5 میں شامل ہے۔محکمہ ماحولیات کے مطابق گجرانوالہ میں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 562، قصور میں 489، فیصل آباد میں 436 اور رائے ونڈ میں 408 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ لاہور میں پارٹیکیولیٹ میٹرز کی مقدار 388 اور ملتان میں 346 تک پہنچ گئی۔ ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ماسک کا استعمال کریں اور غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں۔پنجاب حکومت نے اسموگ پر قابو پانے کے لیے اینٹی اسموگ آپریشن تیز کر دیا ہے۔ لاہور اور گردونواح کے آلودہ ترین علاقوں میں اینٹی اسموگ گنز کا استعمال کیا جا رہا ہے، جب کہ تعمیراتی سرگرمیوں اور لکڑی و کوئلے سے چلنے والے ہوٹلوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ٹریفک پولیس نے بھاری گاڑیوں کی نقل و حرکت محدود کر دی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومتی اقدامات میں تعاون کریں تاکہ آلودگی پر قابو پایا جا سکے۔