خیبرپختونخوا میں نئی حکومت کی تشکیل تعطل کا شکار، وزیراعلیٰ کے استعفے کا معاملہ پیچیدہ

خیبر پختونخوا میں نئی حکومت کی تشکیل ایک بڑے تعطل کا شکار ہوگئی ہے کیونکہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ اب تک گورنر کو موصول نہیں ہوا، جس کے باعث نامزد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حلف برداری تاخیر کا شکار ہوگئی ہے۔ذرائع کے مطابق جمعہ کی رات وزیراعلیٰ ہاؤس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اعلیٰ سطحی بیٹھک ہوئی جس میں اسپیکر بابر سلیم سواتی، سہیل آفریدی، اسد قیصر، جنید اکبر اور دیگر رہنما شریک ہوئے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس آج سہہ پہر 3 بجے طلب کیا جائے گا، جس کا اعلامیہ صبح جاری کیا جائے گا۔بیٹھک میں وزیراعلیٰ کے استعفے کی گمشدگی کے معاملے پر غور کیا گیا اور علی امین گنڈاپور کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش کرنے پر مشاورت بھی کی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حتمی فیصلے کے بعد پارٹی ارکان کے دستخط حاصل کیے جائیں گے تاکہ اسمبلی میں باضابطہ قرارداد پیش کی جا سکے۔پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے استعفے سے متعلق قانونی پہلوؤں پر مشاورت جاری ہے، وکلا کی ٹیم تجاویز پیش کر رہی ہے اور نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے آئینی طریقۂ کار مکمل کیا جائے گا۔واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور نے بطور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد پارٹی نے سہیل آفریدی کو نیا وزیراعلیٰ نامزد کیا۔تاہم گورنر فیصل کریم کنڈی کے مطابق انہیں تاحال وزیراعلیٰ کا استعفیٰ موصول نہیں ہوا، جس کے باعث نئی حکومت کی تشکیل تاخیر کا شکار ہے۔