اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک اجلاسوں میں شرکت کے لیے امریکہ روانہ

اسلام آباد وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کے لیے امریکہ روانہ ہوگئے ہیں، جہاں وہ پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
وزیر خزانہ ان اجلاسوں کے دوران آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اعلیٰ سطحی پلینری سیشنز میں شریک ہوں گے، جبکہ ان کی ملاقاتیں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) اور ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی (MIGA) کے حکام سے بھی طے ہیں,محمد اورنگزیب عالمی بینک کے صدر اجے بنگا سے ملاقات کریں گے اور ان کی خصوصی دعوت پر منتخب ممالک کے وزرائے خزانہ کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے میں بھی شریک ہوں گے,وزیر خزانہ کی آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹلینا جارجیوا سے ملاقات بھی شیڈول ہے، اس کے علاوہ وہ چین، برطانیہ، سعودی عرب، ترکیہ اور آذربائیجان کے وزرائے خزانہ سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے,دورے کے دوران وزیر خزانہ کی امریکی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں سے بھی اہم ملاقاتیں طے ہیں، جن میں وائٹ ہاؤس کے حکام، امریکی کانگرس کی فنانشل سروسز کمیٹی کے چیئرمین، امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ، ٹریژری ڈپارٹمنٹ اور ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن (DFC) کے حکام شامل ہیں,پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ تاحال نہ ہو سکا دوسری جانب 9 اکتوبر کو پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری مذاکرات میں تاحال اسٹاف لیول معاہدہ نہیں ہو سکا، تاہم دونوں فریقین نے پالیسی سطح پر مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے;ذرائع کے مطابق دوسرے ششماہی اقتصادی جائزہ مذاکرات مکمل ہو چکے ہیں، جس کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔ اعلامیہ میں آئی ایم ایف نے پاکستان کی اقتصادی کارکردگی کو مستحکم قرار دیتے ہوئے معاشی اصلاحات اور مالی نظم و ضبط پر زور دیا ہے,آئی ایم ایف نے مہنگائی کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے سخت مالیاتی پالیسی جاری رکھنے کی سفارش کی ہے، جبکہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات، ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، اور سرکاری اداروں میں شفافیت کے فروغ پر بھی زور دیا گیا ہے،اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ مذاکرات میں کموڈیٹی مارکیٹس کی آزادی، کاروباری ماحول میں بہتری اور سرکاری اداروں کے حجم میں کمی جیسے نکات بھی زیر غور آئے، اس دوران پاکستان کے ساتھ جاری 37 ماہ کے قرض پروگرام اور 28 ماہ کے کلائمیٹ رزیلینس پروگرام پر بھی تفصیلی بات چیت کی گئی۔