ایران میں 71 سخت گیر اراکین کا ایٹم بم بنانے کا مطالبہ

تہران: ایران کی پارلیمنٹ میں 71 سخت گیر اراکین اسمبلی نے ایٹمی ہتھیار بنانے اور دفاعی حکمت عملی تبدیل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ایرانی ویب سائٹ کے مطابق، یہ مطالبہ اسرائیل کے بڑھتے ہوئے حملوں اور خطے کی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ اراکین پارلیمنٹ نے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کو خط لکھا ہے جس پر 71 قانون سازوں کے دستخط موجود ہیں۔ یہ خط مشہد سے تعلق رکھنے والے قدامت پسند رکن اسمبلی کی قیادت میں تحریر کیا گیا۔خط میں کہا گیا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کا دو دہائی قبل کا فتویٰ صرف ایٹم بم کے استعمال پر پابندی عائد کرتا ہے، مگر ایٹمی ہتھیار رکھنے یا بطور دفاعی حکمت عملی بنانے پر کوئی قدغن نہیں لگاتا۔قانون سازوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل عالمی قوانین توڑ کر حملے کر رہا ہے اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے، اس صورتحال میں ایران کے لیے ایٹم بم ناگزیر ہو چکا ہے۔خط پر دستخط کرنے والے احمد آریائی نژاد نے کہا کہ “اگر ہمارے پاس ایٹم ہوگا، چاہے ہم اسے استعمال نہ بھی کریں، تو کوئی بھی ایران پر حملہ کرنے کی ہمت نہیں کرے گا۔”دوسری جانب خبر رساں ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عائد ہونے کے قریب ہیں۔ اسی دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی امریکا سے مذاکرات کے لیے نیویارک پہنچ گئے ہیں جبکہ صدر مسعود پیشکیان بھی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوں گے، جہاں غزہ جنگ اور فلسطینی ریاست کے قیام پر غور کیا جائے گا۔