جرمنی میں افغان شہریوں کا پاکستانی قونصل خانے پر پتھراؤ، پرچم کی بےحرمتی، پاکستان کی شدید مذمت

جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں افغان شہریوں کی جانب سے پاکستانی قونصل خانے پر پتھراؤ اور پاکستانی پرچم اتارنے کا افسوسناک واقعہ بھی پیش آیا۔ پاکستانی سفارتی حکام نے فرینکفرٹ میں پیش آئے افسوسناک واقعے پر جرمنی کی وزارت خارجہ سے احتجاج کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان شہریوں نے فرینکفرٹ میں احتجاج کے دوران پاکستانی قونصل خانے پر دھاوا بولا، پتھراؤ کیا اور پاکستانی رچم بھی اتارا جس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے، رپورٹس کے مطابق افغان باشندوں نے پاکستانی پرچم جلانے کی کوشش بھی کی پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ غیر ملکی سفارتی تنصیبات کی سکیورٹی کی ذمہ داری جرمن حکومت کی ہے، اس معاملے پر بین الاقوامی برادری میں بھی سفارتی تنصیبات کی سکیورٹی کے معاملے پر تشویش پائی جاتی ہے۔ فرینکفرٹ میں جرمنی کے حکام کی جانب سے پاکستانی سفارتی حکام کو مکمل تحقیقات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ دوسری جانب غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے جرمن حکام نے سوشل میڈیا پر اس معاملے کی ویڈیو وائرل ونے کے بعد متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا ہے جن سے تفتیش کی جا رہی ہے ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ کی جانب سے جاری بیان میں پاکستان نے جرمنی کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ویانا کنونشنز کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔ دفترخارجہ نے کہا کہ فرینکفرٹ میں پاکستانی قونصل خانے کی سلامتی کو خطرے میں ڈالاگیا، واقعے سے قونصل عملے کی جان کو خطرہ لاحق ہوا ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ سفارتکاروں کی سلامتی یقینی بنانامیزبان حکومت کی ذمہ داری ہے، جرمن حکام ملوث افراد کو فوری طور پر گرفتار کریں،ترجمان دفترخارجہ پاکستانی سفارتی حکام نے افسوسناک واقعے پر جرمن وزارت خارجہ سے احتجاج کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ غیر ملکی سفارتی تنصیبات کی سیکیورٹی کی ذمہ داری جرمن حکومت کی ہے، اس معاملے پر بین الاقوامی برادری میں بھی سفارتی تنصیبات کی سیکیورٹی کے معاملے پر تشویش پائی جاتی ہے جرمن حکام نے پاکستانی سفارتی حکام کو مکمل تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے۔ پاکستان نے فرینکفرٹ جرمنی میں انتہاپسندگروہ کی جانب سے اپنےقونصل خانے پرحملےکی شدید مذمت کی ہے۔جرمن حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ویاناکنونشنز کے تحت ذمہ داریوں کو پورا کرے۔