پاکستان میں کتنے فیصد بچے اسکول جاتے ہیں اور کتنے نہیں؟ رپورٹ جاری

تفصیلات کے مطابق پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کوویڈ 19 سمیت دیگر چیلنجز کے باوجود 2017 سے 2022 تک تعلیمی اداروں میں بچوں کے انداراج میں 12.28 ملین اضافہ ہوا، 2017 میں تعلیمی اداروں میں بچوں کی تعداد 28.69 ملین تھی جو بڑھ کے 2022 میں 40.97 ملین ہوگئی رپورٹ میں کہنا تھا کہ اسکول نہ جانے والی بچوں کی شرح 44 فیصد سے کم ہو کر 39 فیصد رہ گئی ہے ، تعلیم جاری رکھنے کی شرح اضافے کے ساتھ 77 فیصد ہوگئی پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن نے کہا کہ پینے کے صاف پانی، ٹوائلٹ، چار دیواری اور بجلی کی سہولیات میں بھی اضافہ ریکارڈ ہوا ہے، کلاس روم میں بچوں کی تعداد کا عالمی معیار حاصل کرنے کا سفر جاری ہے پرائمری سے ہائر سیکنڈری سطح تک رسمی اسکولز کی تعداد 227,506 ہے جو 73 فیصد بنتی ہے رپورٹ کے مطابق ملکی سطح پرپبلک اور پرائیویٹ سکولزودیگر سمیت کل 313,418 تعلیمی ادارے ہیں جن میں سے پرائمری سے لے کر ہائیر سیکنڈری سطح تک رسمی اسکولز کی تعداد 227,506 جو 73 فیصد بنتی ہے اس کے علاوہ دینی مدارس کی تعداد 43,613 (14فیصد)، غیر رسمی بنیادی تعلیمی ادارے 25,106 (8 فیصد)، ایجوکیشن فاؤنڈیشن 10,087 (3 فیصد)، ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ4,182 (ایک فیصد) اور 2,487 (ایک فیصد) ڈگری کالج، 220 یونیورسٹیاں اور اساتذہ کی تربیت کے 217 ادارے شامل ہیں ان کل 313,418 تعلیمی اداروں میں اکثریت، 176,184 (56.2فیصد) کا تعلق سرکاری شعبے سے ہے، جبکہ نجی شعبے میں 137,234 (43.8فیصد) ادارے شامل ہیں۔ تمام سطحوں پر تعلیمی اداروں میں رجسٹرڈ طلبا ء کی کل تعداد 54,870,964 ہے صوبائی سطح پر پرائمری ایجوکیشن میں آخری گریڈ تک آبادی والے علاقوں میں نئے داخل ہونے والے طلباء کی تعدادپنجاب میں 74 فیصد،سندھ میں 55 فیصد،خیبر پختونخواہ میں 68 فیصد،بلوچستان میں 35 فیصد اور اسلام آباد کیپٹل میں 91 فیصد اور مڈل کلاس کا یہی تناسب پنجاب میں 54 فیصد،سندھ میں 35 فیصد،خیبرپختونخواہ میں 50 فیصد اور اسلام آباد کیپٹل میں 82 فیصد جبکہ ملکی سطح پر پرائمری سطح کا تناسب 65 فیصد اورمڈل سطح کا تناسب 47فیصد ہے رپورٹ میں بتایا گیا کہ کلاس روم میں عالمی معیار کے مطابق 30 بچے فی کلاس ہونے چاہیں ، اس کے حصول کے لئے کوشاں ہیں، 2021-22 میں ایک کلاس میں بچوں کی شرح39 سے کم ہو کر 37 تک رہی ۔