سندھ کے شہر جیکب آباد میں پسند کی شادی کے بعد چنہ برادری کے مسلح افراد نے گاؤں محمد صدیق آرائیں پر حملہ کر کے برڑو برادری کے درجنوں گھر جلا دیے۔ پولیس کے مطابق سدرہ چنہ اور محمد حسن نے 5 مئی کو اپنی مرضی سے شادی کی تھی، جس کی ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مشتعل افراد نے 100 سے زائد گھروں کو آگ لگا دی، جبکہ واقعے کے دو مقدمات درج کیے گئے ہیں، جن میں ایک گاؤں جلانے اور دوسرا لڑکی کے اغوا کا ہے۔ تاہم لڑکی نے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ وہ بالغ ہے اور اس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے، جبکہ محمد حسن نے حکومت سے تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید کے مطابق لڑکی حکومت کی تحویل میں محفوظ ہے اور پسند کی شادی ہر شہری کا حق ہے۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 5 افراد کو گرفتار کر لیا، جبکہ دیگر ملزمان فرار ہو گئے۔ حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے نقصان کے ازالے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔
ایس ایس پی فیضان علی کے مطابق واقعے کے بعد گاؤں میں پولیس پکٹس قائم کر دی گئی ہیں اور صورتحال قابو میں ہے۔ پولیس نے انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ متاثرہ برڑو برادری کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔