بھتہ خوری میں افغانستان کے موبائل نمبرز زیادہ استعمال کیے جاتے ہیں

خیبر پختونخوا میں بھتہ خوری کیسز سے متعلق سی ٹی ڈی رپورٹ سی پی او کو ارسال کر دی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھتہ خوری میں میں استعمال تقریباً 99 فیصد موبائل نمبرز غیر ملکی ہوتے ہیں اور افغانستان کے موبائل نمبرز زیادہ استعمال کیے جاتے ہیں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال 225 غیر ملکی نمبرز میں 213 افغان نمبرز استعمال کیے گئے۔ بھتہ خوری میں استعمال غیر ملکی نمبرز تک رسائی کی صلاحیت نہیں اور رسائی نہ ہونے کے باعث 37 فیصد سے زیادہ کیسز زیر التوا ہیں اور یہی بھتہ خوری کے واقعات بڑھنے کی وجہ بھی ہے رپورٹ میں سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ زیر التوا مقدمات میں اضافہ بھتہ خوری کے بڑھتے واقعات کی وجہ ہے جب کہ غیر ملکی نمبر ٹریس نہ کرنے کے باعث دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں۔ شہریوں پر آئی ای ڈیز، فائرنگ اور دستی بموں سے حملہ کیا جا رہا ہے رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ معاملے سے متعلق ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھتہ خوری میں استعمال ایک ہزار 519 افغان موبائل نمبرز کو بلاک اور سی ٹی ڈی کو بھتہ خوروں کے واٹس ایپ ایڈریس تک رسائی دی جائے جب کہ پی ٹی اے افغان ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی کے ساتھ طریقہ کار وضع کرے۔