لاہور میں دفعہ 144 کا نفاذ کرانے کے لیے پولیس نے کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے عابد مارکیٹ بند کرانے کے لیے کریک ڈاؤن کیا۔پولیس نے عابد مارکیٹ میں دکانیں بندا کروا دیں۔اس دوران مزاحمت کرنے پر ایک دکاندار کو حراست میں بھی کیا گیا۔ڈی آئی جی آپریشنز لاہور علی ناصر رضوی نے اسموگ کی شدت کے باعث لگائے جانے والے اسمارٹ لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل درآمد کرنے کا حکم دیا تھا ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکار صبح دس گیارہ بجے تک رومیو بن کر گھروں میں رہیں گے تو لاہور کیسے چلے گا؟ ڈی آئی جی نے پولیس افسران کو وائرلیس میسج میں کہا ہے کہ سمارٹ لاک ڈاون کے دوران فورس 24 گھنٹے متحرک رہے گی۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ پولیس افسران رمیو پوزیشن تبدیل کریں، اگر صبح دس گیارہ بجے تک گھروں میں رومیو بن کر رہیں گے تو لاہور کیسے چلے گا!6 بجے دفتروں کو تالا لگا کر گھر جانے والا رواج نہیں رہا اور کوئی ایسی کوشش بھی نہ کرے انہوں نے کہا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن میں صرف ایمرجنسی سروس چلیں گی باقی سب بند کروا دیا جائے گا۔ ڈی آئی جی کا مزید کہنا تھا کہ شہر میں 50 کے قریب بڑے اور 170 چھوٹے ناکے لگائے جائیں گے۔دفعہ 144 کے تحت گاڑی میں سوار افراد کی تعداد بھی چیک کی جائے۔ جب کہ دوسری جانب آل پاکستان انجمن تاجران کی سپریم کونسل کے چیئرمین نعیم میر نے سمارٹ لاک ڈاؤن پر حکومت پنجاب کی کنفیوز پالیسیوں پر ردعمل دیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ اسموگ کے پیش نظر حکومت نے چار دن سمارٹ لاک ڈاؤن کرنے کا اعلان کیا۔ کمشنر لاھور سے مذاکراتی عمل کے نتیجے میں 9 اور 10 نومبر کو کاروبار کھلے رکھنے پر اتفاق ہوا۔ 11اور 12نومبر کو مارکیٹیں بند کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔ حکومت نے نوٹفکیشن جاری کردیا۔ آج بروز جمعہ 10 نومبر مارکیٹوں کو بند کرنے کے لئے پولیس نے دھاوا بول دیا۔نعیم میر نے کہا کہ یہ حکومت کے نوٹفکیشن اور ہماری انڈرسٹینڈنگ کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ بارش ہوجانے کی صورت میں سمارٹ لاک ڈاؤن ختم کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا۔ آج بارش بھی ہوئی اور لاہور کا ائیر کوالٹی انڈیکس بہتر ہو گیا۔ حکومت اپنے وعدوں پر عمل کرے۔ حکومت اپنی کریڈیبیلٹی خراب نہ کرے۔