75 سال قبل ڈوگرہ فوج نے جموں کٹھوا، اُدہم پور اور ریاسی کے اضلاع میں منظم انداز سے کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی

کثیر تعداد میں کشمیری مسلمان ان اضلاع کے پولیس اسٹیشنوں میں پاکستان کی جانب نقل مکانی کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے، قتل عام سے قبل ڈوگرہ فوج کے مسلمان سپاہیوں کو برطرف جب کہ جموں کینٹ کے کمانڈر کو ہندو افسر کے ساتھ تبدیل کر دیا گیا قتل عام میں ڈوگرہ فوج کے ساتھ راشٹریہ سیوک سنگھ بھی شامل تھی، 6 نومبر کو 60 سے زائد بسوں میں کشمیری مسلمانوں کو سوار کرا کر سیالکوٹ کی طرف پہلا قافلہ روانہ کیا گیا، سامبہ کے مقام پر راشٹریہ سیوک سنگھ اور ڈوگرہ فوج نے گھات لگا کر حملہ کیا اور 123 گاوٴں جلا کر سب کو موت کے گھاٹ اتار دیا برٹش ڈیلی کے مطابق دو ہفتے تک جاری رہنے والے قتل عام کے نتیجے میں 2 لاکھ 37 ہزار کشمیری مسلمان منظم طور پر شہید کیے گئے۔ اسپیکٹیٹر کے مطابق قتل عام کو سیاسی سر پرستی حاصل تھی 76 سال گزر جانے کے بعد بھی کشمیری اپنا حق خودارادیت استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔