تشدد کا شکار ہونے والی کمسن ملازمہ رضوانہ کی طبعیت بہتر ہونے لگی رضوانہ کے علاج کے لیے قائم میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر جودت سلیم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ رضوانہ کی طبعیت میں بہتری آ رہی ہےآپریشن کے بعد بچی کے زخموں کے انفیکشن میں بھی کمی دیکھی جا رہی ہے رضوانہ کی طبعیت اب قدرے بہتر ہے انہوں نے مزید کہا کہ رضوانہ کے سر، چہرے، کمر کے زخموں کا انفیکشن ختم کرنے کے لیے آپریشن کرکے پٹیاں کی جا رہی ہیں پٹیوں کے بعد انفیکشن میں کمی آنا خوش آئند ہے زخموں کا انفیکشن ختم ہونے کے بعد پلاسٹک سرجری کی جائے گی سر پر زخم عین درمیان میں ہے، رضوانہ ابھی بیٹھ بھی رہی ہے جب کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے کمسن بچی رضوانہ تشدد کیس میں ملزمہ سومیہ عاصم کی درخواست ضمانت مسترد ہونے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی نے 4صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا فیصلے کے مطابق ریکارڈ سے حقیقت معلوم ہوئی کہ کمسن بچی رضوانہ گزشتہ چھ ماہ سے ملزمہ سومیہ عاصم اور ان کے اہل خانہ کے ہمراہ رہائش پذیر تھیں عدالت نے کہا کہ وکیل صفائی نے الزام لگایا کہ سومیہ عاصم فلاحی کام کے تناظر میں رضوانہ کی والدہ کو 10ہزار روپے ماہانہ دیتی تھیں
عدالت نے کہاکہ وکیل صفائی نے پیسوں کے حوالے سے الزام تو لگایا لیکن دستاویزات پر مبنی ثبوت نہیں دیئے۔جج شائستہ کنڈی نے کہاکہ وکیل صفائی کے مطابق رضوانہ کو اچھی تعلیم بھی مہیا کی جارہی تھی لیکن کمسن بچی کی تعلیم کے حوالے سے عدالت کے استفسار پر وکیل صفائی نے کوئی تسلی بخش جواب نہ دیا۔ جج شائستہ کنڈی کے مطابق یہ بات حقیقت ہے کہ رضوانہ کو23جولائی کو اپنی والدہ کے حوالے کیا گیا،سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی عدالت میں پیش کی گئیںجن کے مطابق رضوانہ کی صحت غیر مستحکم تھی انہوں نے کہاکہ سی سی ٹی وی فوٹیجز سے معلوم ہوا کہ رضوانہ کے لیے بس تک چلنا دشوار تھا،سی سی ٹی وی فوٹیجز سے عیاں ہواکہ رضوانہ کو دیگر افراد کے سہارے بس پر چڑھایا گیا۔عدالت نے بتایاکہ میڈیکل لیگل رپورٹ کے مطابق رضوانہ کو سنجیدہ نوعیت کی چوٹیں لگی ہیں،کمسن بچی اب بھی اسپتال کے آئی سی یو میں زیرعلاج ہیں عدالت نے سومیہ عاصم کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے کہاکہ ان کے خلاف الزامات سنجیدہ نوعیت کے ہیں،اس لئے ان کی درخواست ضمانت مسترد کی جاتی ہے