ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کا حجم تقریباً 18 ہزار ارب روپے ہو سکتا ہے، جبکہ بجٹ 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ تنخواہ دار طبقے کو انکم ٹیکس میں ریلیف ملنے کی توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سالانہ 12 سے 22 لاکھ روپے آمدن رکھنے والے ملازمین کے لیے ٹیکس میں کمی کی جا سکتی ہے، جبکہ سپر ٹیکس میں بھی ممکنہ کمی پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم کارپوریٹ انکم ٹیکس میں کمی کا امکان نہیں ہے۔آئندہ بجٹ میں میک اپ کا سامان، سرخی پاؤڈر، مسکارا، شیمپو اور صابن سستے ہونے کا امکان ہے، جبکہ الیکٹرک گاڑیوں، ہائبرڈ اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کیا جا سکتا ہے، جبکہ نان ٹیکس آمدن کا تخمینہ 2 ہزار 768 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ ڈائریکٹ ٹیکسز سے 7 ہزار 413 ارب روپے، سیلز ٹیکس سے 4 ہزار 727 ارب روپے، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے 1 ہزار 43 ارب روپے اور کسٹم ڈیوٹی سے 1 ہزار 651 ارب روپے وصول ہونے کا امکان ہے۔پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی مد میں 1 ہزار 727 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف رکھا جا سکتا ہے، جو رواں مالی سال کے 1 ہزار 468 ارب روپے کے ہدف سے 259 ارب روپے زیادہ ہے۔ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال میں نان ٹیکس آمدنی کا ہدف 2 ہزار 768 ارب روپے جبکہ گیس سرچارج کی مد میں 151 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا جا سکتا ہے۔ سود اور قرضوں کی ادائیگیوں پر وفاقی حکومت کے 7 ہزار 824 ارب روپے خرچ ہونے کا تخمینہ ہے، جن میں مقامی قرضوں کی ادائیگی پر 6 ہزار 652 ارب روپے اور غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی پر 1 ہزار 107 ارب روپے خرچ ہونے کی توقع ہے۔