ایران پر جوہری حملہ

ایران پر جوہری حملہ: نیتن یاہو کے دباؤ پر ٹرمپ کا بڑا فیصلہ ممکن

واشنگٹن: معروف امریکی صحافی اور تجزیہ کار ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگر دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو وہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے شدید دباؤ پر ایران پر جوہری حملہ کرنے کا اختیار استعمال کر سکتے ہیں۔ اس سنسنی خیز بیان نے بین الاقوامی سیاسی اور دفاعی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور خطے کے معروضی حالات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

ٹکر کارلسن نے اپنے حالیہ انٹرویو اور پوڈ کاسٹ کے دوران مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو کا مشرق وسطیٰ میں بنیادی مقصد امریکہ کو براہ راست جنگ میں دھکیلنا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل کا دفاعی اور سیاسی ڈھانچہ طویل عرصے سے واشنگٹن پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ تہران کی جوہری صلاحیتوں کو مکمل طور پر ناکارہ بنایا جا سکے۔

امریکی صحافی کا مزید کہنا تھا کہ اگر امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران پر جوہری حملہ کا غیر سنجیدہ اقدام اٹھایا جاتا ہے تو یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہو گا۔ اس طرح کا خوفناک قدم تیسری عالمی جنگ کے آغاز کا سبب بن سکتا ہے، جس کے بعد دنیا بھر میں اقتصادی اور انسانی بحران کو سنبھالنا ناممکن ہو جائے گا۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے غیر متوقع اور جارحانہ انداز کی حامل رہی ہے۔ اپنے سابقہ دورِ اقتدار میں بھی ٹرمپ نے ایران کے ساتھ طے پانے والے بین الاقوامی جوہری معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کر دیا تھا اور تہران پر سخت ترین اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی مبصرین ٹکر کارلسن کے اس تشویشناک خدشے کو نظرانداز کرنے سے قاصر ہیں۔

ٹکر کارلسن نے زور دے کر کہا کہ امریکی حکمران طبقہ اور واشنگٹن میں موجود طاقتور لابی نیتن یاہو کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے خطے میں کشیدگی پیدا کر رہی ہے۔ کسی بھی ملک کی جانب سے ایران پر جوہری حملہ کرنے کی حکمت عملی زیر غور لانا ایک خطرناک کھیل ہے جو عالمی معیشت، تیل کی ترسیل اور عالمی توانائی کی منڈیوں کو پل بھر میں تباہ کر سکتا ہے۔

دوسری جانب بین الاقوامی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی زبانی جنگ اور دھمکیاں پورے خطے کو تباہی کے دہانے پر لا رہی ہیں۔ اگر تہران نے اپنے دفاعی اور جوہری پروگرام میں پیشرفت جاری رکھی اور تل ابیب نے واشنگٹن پر اپنا اثر و رسوخ مزید بڑھایا تو مشرق وسطیٰ میں ایک ایسی ہولناک جنگ جنم لے سکتی ہے جس کے اثرات دہائیوں تک ختم نہیں ہوں گے۔

عالمی امور کے ماہرین کے مطابق ٹکر کارلسن کے اس بیان پر گہرے سیاسی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، تاہم اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آنے والے امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج مشرق وسطیٰ کے سیاسی نقشے اور امن کا تعیّن کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ عالمی برادری اس وقت تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیش آنے والی ان پیش رفتوں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔