اسلام آباد: گنے کی کٹائی کے کام میں خواتین کی محنت اور قربانیاں قابل غور ہیں۔ جنوبی انڈیا کی ریاست کرناٹک کے دور افتادہ دیہی علاقے رامانال میں صبح کے چار بج رہے ہیں، جہاں پورنیما ایک اور دن شروع کرنے کے لیے اپنے خیمے سے باہر نکلتی ہیں۔
یہ خواتین، جو عارضی پناہ گاہوں میں رہتی ہیں، مردوں کے جاگنے سے پہلے نہا دھو لیتی ہیں تاکہ دن کی محنت کے لیے تیار ہو سکیں۔ ان مزدوروں نے اپنے قرضے چکانے کے لیے اپنے گاؤں سے 500 کلومیٹر سے زیادہ کا سفر طے کر کے یہاں پہنچنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پورے انڈیا میں ایک اندازے کے مطابق 15 لاکھ افراد گنے کی کٹائی کا کام کرتے ہیں۔ یہ مزدور اکثر روزانہ 14 گھنٹے محنت کے عوض محض 400 انڈین روپے (تقریباً تین برطانوی پاؤنڈ) کماتے ہیں۔ ان کی محنت کی داستانیں نہ صرف ان کے عزم کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ ان کی زندگی کی تلخیوں کو بھی بیان کرتی ہیں۔
یہ مزدور عموماً میاں بیوی کی جوڑی کی صورت میں صبح سویرے سے رات تک کام کرتے ہیں۔ وہ کٹے ہوئے گنے کو ٹرکوں پر لادنے کے لیے ہی کٹائی روکتے ہیں، جس سے ان کی محنت کا ثمر حاصل ہوتا ہے۔ ان کی کہانیاں ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ کیا ہم ان کی محنت کی قدر کرتے ہیں یا نہیں۔