اسلام آباد: سعودی کمپنیوں کے لیے ٹیکس فری تیل ذخیرہ کی پالیسی پاکستان نے منظور کر لی ہے۔ یہ فیصلہ ملک میں تجارتی تیل ذخائر کے قیام کی اجازت دیتا ہے، جس سے سعودی کمپنیوں کو مقامی ٹیکس کی ذمہ داریوں سے مستثنیٰ کیا جائے گا۔ یہ معلومات جمعہ کو وزارت پٹرولیم کے ایک بیان میں فراہم کی گئیں۔
وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے اس پالیسی کی تفصیلات سعودی عرب کے نئے سفیر ڈاکٹر راجہ کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران شیئر کیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
یہ پالیسی سعودی کمپنیوں کو پاکستان میں تیل کی ذخیرہ اندوزی کے لیے ایک محفوظ اور مستحکم ماحول فراہم کرے گی، جس سے نہ صرف سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا بلکہ مقامی معیشت کو بھی فروغ ملے گا۔ وزیر نے مزید کہا کہ اس اقدام سے پاکستان میں تیل کی ریفائننگ کے مرکز کے قیام کی راہ ہموار ہوگی، جو کہ ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نئے ذرائع تلاش کر رہا ہے۔ سعودی عرب کی سرمایہ کاری سے نہ صرف تیل کی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ یہ ملک کے اقتصادی استحکام کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔