اسلام آباد: گوگل کی حصص کی قیمت میں تاریخی کمی نے امریکی اسٹاک مارکیٹ میں بھونچال پیدا کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں، گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کے حصص کی قیمت میں 12 فیصد سے زیادہ کی گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے، جس کے نتیجے میں کمپنی کی مارکیٹ ویلیو سے 500 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے استعمال نے مارکیٹ کی توقعات کو متاثر کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس گراوٹ کی بنیادی وجہ اے آئی ٹیکنالوجی کی ترقی اور اس کے اثرات ہیں۔ جب کہ گوگل نے ہمیشہ اپنی ٹیکنالوجی میں جدت لانے کی کوشش کی ہے، حالیہ تبدیلیوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔ اس کے علاوہ، دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے بھی اے آئی کے میدان میں بڑھتی ہوئی مسابقت نے گوگل کے حصص کی قیمتوں پر منفی اثر ڈالا ہے۔
اس صورتحال نے سرمایہ کاروں کے درمیان بے چینی پیدا کر دی ہے، اور بہت سے لوگ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا یہ گراوٹ عارضی ہے یا طویل مدتی اثرات مرتب کرے گی۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر گوگل اپنی حکمت عملی میں تبدیلی نہیں لاتا تو اس کے حصص کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان ہے۔
اس کے باوجود، گوگل کی انتظامیہ نے اس صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے نئے منصوبے تیار کرنے کا عزم کیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے یہ امید ظاہر کی گئی ہے کہ وہ جلد ہی مارکیٹ میں اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔