غلاموں کی تجارت

غلاموں کی تجارت: برطانیہ معافی کے مطالبات پر غور کے لیے تیار

اسلام آباد: غلاموں کی تجارت کے حوالے سے برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنم نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں برطانیہ کے کردار پر باضابطہ معافی مانگنے کے مطالبات سننے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے غلاموں کی تجارت کے نتیجے میں ہونے والے مصائب پر اپنے ذاتی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

وزیر اعظم برنم اگلے ہفتے کیریبین میں ہونے والے دولت مشترکہ کے سربراہوں حکومت کے اجلاس (چوگھم) میں شرکت کریں گے، جہاں وہ اس اہم موضوع پر بات چیت کریں گے۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب کیریبین ممالک نے برطانیہ کے خلاف مالی ہرجانے اور معافی کے مطالبات کو دوبارہ دہرایا ہے۔

برطانیہ کی تاریخ میں غلاموں کی تجارت کا ایک تاریک باب ہے، جس میں لاکھوں افراد کو جبری طور پر غلام بنایا گیا اور انہیں بیچا گیا۔ اس پس منظر میں، برطانیہ کی حکومت کی جانب سے معافی کے مطالبات کا جائزہ لینا ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔ برنم نے متاثرین کے ساتھ باضابطہ بات چیت کی پیشکش بھی کی ہے، جو کہ اس مسئلے کی حساسیت کو اجاگر کرتا ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ برطانیہ کے بادشاہ نے حال ہی میں کیریبین ممالک کا دورہ کیا، جس کے دوران انہوں نے اس مسئلے پر گفتگو کی۔ برطانیہ کی حکومت کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ اپنی تاریخ کے اس سیاہ پہلو کا سامنا کرے اور متاثرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرے۔