چین کا خفیہ خلائی طیارہ

چین کا خفیہ خلائی طیارہ: پینٹاگون کی پہلی تصویر جاری

اسلام آباد: چین کا خفیہ خلائی طیارہ کی پہلی تصویر پینٹاگون نے جاری کی ہے، جو 2024 میں میکسار ٹیکنالوجیز کے سیٹلائٹ نے حاصل کی تھی۔ یہ تصویر عالمی سطح پر چین کی خلائی ٹیکنالوجی کی ترقی کی عکاسی کرتی ہے اور اس کے ممکنہ مقاصد پر سوالات اٹھاتی ہے۔

<pامریکی وزارتِ دفاع کی دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی نے اس تصویر کو جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ طیارہ جدید ٹیکنالوجی کا حامل ہے اور اس کے استعمال کے مقاصد میں جاسوسی اور دیگر فوجی سرگرمیاں شامل ہو سکتی ہیں۔ اس تصویر کی تفصیلات نے عالمی برادری میں تشویش پیدا کی ہے، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جو چین کی بڑھتی ہوئی خلائی صلاحیتوں سے متاثر ہیں۔

<pچین کی جانب سے اس طیارے کی ترقی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں، جن میں عالمی طاقتوں کے ساتھ خلائی دوڑ اور جدید ٹیکنالوجی کی دوڑ شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طیارہ چین کی دفاعی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہو سکتا ہے، جو اسے عالمی سطح پر ایک طاقتور کھلاڑی کے طور پر پیش کرتا ہے۔

<pاس تصویر کی اشاعت کے بعد، بین الاقوامی تجزیہ کاروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ چین کی خلائی سرگرمیاں صرف سائنسی تحقیق تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس کے پیچھے عسکری مقاصد بھی پوشیدہ ہیں۔ یہ صورتحال عالمی سلامتی کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتی ہے، جس پر دنیا کو غور کرنا ہوگا۔