سلمان اکرم راجہ

سلمان اکرم راجہ: نورین نیازی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے

اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی سیکریٹری جنرل اور ممتاز قانون دان سلمان اکرم راجہ نے شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ نورین نیازی کو ناہق اور صرف سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران اتحاد اپنے سیاسی مخالفین کی خواتین کو بے بنیاد مقدمات میں الجھا کر غیر اخلاقی اور غیر جمہوری روایات کو فروغ دے رہا ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی کو عملاً معطل کر دیا گیا ہے۔ ان کے بقول نورین نیازی کے خلاف کی جانے والی کارروائیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ حکومت سیاسی بنیادوں پر انتقامی تسلسل کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی حدود سے تجاوز کر کے شہریوں کے حقوق کو غصب کرنا کسی بھی طور قابلِ قبول نہیں ہے۔

سلمان اکرم راجہ نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے ہمیشہ آئین کی پاسداری اور قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ عدالتوں سے ضمانتیں ملنے کے باوجود اپوزیشن رہنماؤں اور ان کے اہل خانہ کو نئے مقدمات میں نامزد کر دینا انصاف کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے عدلیہ سے اپیل کی کہ وہ ان غیر قانونی اقدامات کا سخت نوٹس لے تاکہ ملک میں قانون کا احترام بحال ہو سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نورین نیازی کی گرفتاری اور ان کے خلاف قائم کردہ تمام تر مقدمات من گھڑت اور سیاسی دباؤ کا نتیجہ ہیں۔ سلمان اکرم راجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام تر سختیوں، گرفتاریوں اور سیاسی انتقام کے باوجود پاکستان تحریک انصاف اپنے اصولی موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گی اور ہر قانونی فورم پر اپنے رہنماؤں اور کارکنوں کا دفاع جاری رکھے گی۔

سلمان اکرم راجہ نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ عوام اب ان تمام تر مظالم اور انتقامی کارروائیوں سے اچھی طرح باخبر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی انسانی حقوق اور جمہوری قدروں کا تحفظ ہی کسی ملک کی ترقی کی ضامن ہو سکتا ہے، لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ سیاسی انتقام کی پالیسی کو فوری طور پر ترک کر کے آئینی راستے کو اختیار کرے۔