اسلام آباد: پاکستان میں ذہنی مریضوں کی تعداد 3 کروڑ 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ 2 لاکھ 45 ہزار مریضوں کے لیے صرف ایک ماہر نفسیات دستیاب ہے۔ یہ تشویشناک اعداد و شمار وزارت صحت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے ہیں۔
گلوبل برڈن آف ڈیزیز کی رپورٹ کے مطابق، ملک میں ذہنی صحت کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں معاشی مشکلات، بے روزگاری، اور سماجی دباؤ شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ذہنی صحت کی خدمات کی کمی اور عوامی آگاہی کی عدم موجودگی اس مسئلے کو مزید بڑھا رہی ہے۔
وزارت صحت کے مطابق، پاکستان میں ذہنی صحت کے نظام کو مضبوط کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، حکومت کو چاہیے کہ وہ ماہر نفسیات کی تعداد میں اضافہ کرے تاکہ ہر مریض کو بروقت علاج فراہم کیا جا سکے۔
یہ صورتحال نہ صرف مریضوں کے لیے بلکہ ان کے خاندانوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس مسئلے پر توجہ نہ دی گئی تو یہ قومی صحت کے نظام پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔