اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کے اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں طے کرنے کے طریقہ کار میں نمایاں رد و بدل کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران اور امریکا کے مابین بڑھتے ہوئے تناؤ کے باعث عالمی منڈی میں سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس کے اثرات سے مقامی مارکیٹ کو محفوظ رکھنے اور ایندھن کی باقاعدہ ترسیل یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر نیا مالیاتی و انتظامی فارمولا تشکیل دیا گیا ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پٹرولیم ڈویژن اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کے باہمی مشورے سے تیار کردہ اس نئے طریقہ کار کے تحت عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں کے یومیہ اوسط اور ملکی زرمبادلہ کے تبادلے کی شرح کو باقاعدگی سے جانچا جائے گا۔ ماضی میں اپنائے گئے طریقہ کار کے برعکس اب تیل کی بین الاقوامی خریداری پر اٹھنے والے اخراجات، پریمیئم چارجز اور نقل و حمل کے مصارف کو حقیقت پسندانہ بنیادوں پر فوری شامل کیا جائے گا تاکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو کسی بھی غیر متوقع خسارے سے بچایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اب براہ راست عالمی انڈیکس اور درآمدی لاگت سے مربوط ہوں گی، جس کے نتیجے میں قیمتوں کا تعین پندرہ روزہ بنیادوں کے بجائے مختصر مدتی یا فوری ضرورت کے مطابق بھی کیا جا سکے گا۔ عالمی منڈی میں پیدا ہونے والے بحران کی شدت کے پیش نظر پاکستان میں ایندھن کے اسٹریٹجک ذخائر کو مستحکم رکھنے اور نجی درآمد کنندگان کے مالی تحفظ کے لیے درآمدی اخراجات کا از سر نو جائزہ لیا گیا ہے۔ اس عمل سے قومی خزانے پر غیر ضروری مالی بوجھ کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
ماہرین معاشیات کا ماننا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے راستے ہونے والی عالمی تیل کی ترسیل شدید خطرات کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔ اگر بین الاقوامی منڈی میں تیل کی رسد متاثر ہوتی ہے تو خام تیل کے نرخوں میں غیر معمولی اضافہ خارج از امکان نہیں۔ اسی امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے بروقت پیش بندی کی ہے تاکہ ملک میں ایندھن کی مصنوعی قلت پیدا نہ ہو سکے اور سپلائی چین مسلسل رواں دواں رہے۔
وفاقی حکام نے واضح کیا ہے کہ نئی پالیسی کے نفاذ کے دوران عام شہریوں کے مفادات اور معاشی توازن کو برقرار رکھنا اولین ترجیح رہے گا۔ اگرچہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی سطح پر ہونے والے اتار چڑھاؤ سے براہ راست متاثر ہوں گی، تاہم حکومت پیٹرولیم لیوی اور سیلز ٹیکس کے امتزاج کو متوازن رکھ کر صارفین پر بوجھ کو حتی الامکان کم سے کم سطح پر رکھنے کی کوشش کرے گی۔ اس ضمن میں وزارت خزانہ اور اوگرا باقاعدگی سے صورتحال کی کڑی نگرانی کریں گے۔
اس نئے طریقہ کار کی باضابطہ سمری منظوری کے بعد متعلقہ اداروں اور تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ارسال کر دی گئی ہے۔ آئندہ چند روز کے دوران ملک بھر میں پٹرول اور ڈیزل سمیت تمام مصنوعات کی فروخت اور تقسیم اسی نئے فریم ورک کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔ معاشی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات سے ملکی درآمدی نظام میں شفافیت اور ایندھن کے شعبے میں استحکام پیدا ہونے کی توقع ہے۔