امن مذاکرات کے اختیارات

امن مذاکرات کے اختیارات پر رہبر معظّم کی ہدایت

اسلام آباد: امن مذاکرات کے اختیارات کے حوالے سے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ رہبر معظّم نے اس معاملے میں اہم ہدایات فراہم کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اختیارات مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی راہ ہموار کریں گے۔ ایرانی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ امن کی راہ میں بات چیت کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔

مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ رہبر معظّم کی ہدایات کی روشنی میں ایران امن مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ عالمی برادری کو بھی اس عمل میں شامل ہونا چاہیے تاکہ ایک جامع اور پائیدار حل تلاش کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے ذریعے ہی مسائل کا حل ممکن ہے، اور اس کے لیے تمام فریقین کو سنجیدگی سے آگے بڑھنا ہوگا۔

ایران کی حکومت نے ہمیشہ امن کی کوششوں کی حمایت کی ہے اور اس بات کا عزم کیا ہے کہ وہ ہر ممکن طریقے سے مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھائے گی۔ ایرانی صدر نے اس امید کا اظہار کیا کہ بین الاقوامی برادری بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے گی تاکہ ایک مثبت ماحول قائم کیا جا سکے۔

آخر میں، مسعود پزشکیان نے کہا کہ امن مذاکرات کے اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک نئی شروعات کی ضرورت ہے، جس کے ذریعے خطے میں امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔