اسلام آباد: 300 ارب خرچ کرنے کا دعویٰ کرنے والے بتائیں کہ یہ رقم کہاں سے آئی؟ یہ سوال مرتضیٰ وہاب نے اٹھایا ہے، جو کہ ترقیاتی کاموں کے حوالے سے ایک اہم مؤقف اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اختیارات اور وسائل کی کمی کا بہانہ کرنے والے ٹاؤنز میں بھی ترقیاتی کام جاری ہیں، جو کہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وسائل کی کمی کا دعویٰ درست نہیں۔
مرتضیٰ وہاب نے مزید کہا کہ اگر حکومت واقعی ترقیاتی کاموں کے لیے 300 ارب خرچ کر رہی ہے تو اس کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ یہ رقم کہاں سے آئی اور کس طرح خرچ کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شفافیت اور جوابدہی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ عوام کو ان کی تفصیلات فراہم کی جائیں تاکہ وہ جان سکیں کہ ان کے پیسے کس طرح استعمال ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت کو عوامی مفاد میں کام کرنا چاہیے اور ان کے سوالات کا جواب دینا چاہیے۔
یہ سوالات اس وقت اہمیت اختیار کر گئے ہیں جب ملک میں اقتصادی مسائل بڑھ رہے ہیں اور عوام کو ترقیاتی کاموں کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ عوامی نمائندوں کا فرض ہے کہ وہ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے اقدامات کریں اور عوام کو مطمئن کریں۔