پاکستان کا تجارتی خسارہ

پاکستان کا تجارتی خسارہ 16% بڑھ کر 14.6 بلین ڈالر تک پہنچ گیا

اسلام آباد: پاکستان کا تجارتی خسارہ سال بہ سال 16% بڑھ کر 14.6 بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (PBS) کی جانب سے جاری کردہ عارضی معلومات کے مطابق ہیں۔ مالی سال 27 کے پہلے چار ماہ (جولائی تا اکتوبر) میں درآمدات کی رفتار برآمدات سے زیادہ رہی، جس کی وجہ سے یہ خسارہ بڑھا۔

<pاکتوبر کے مہینے میں، تجارتی خسارہ 3.9 بلین ڈالر تک پہنچ گیا، جو پچھلے سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 20% کا اضافہ ہے۔ یہ صورتحال ملکی معیشت کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ بڑھتی ہوئی درآمدات اور کمزور برآمدات کے باعث تجارتی توازن متاثر ہو رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت نے درآمدات کو کنٹرول کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، لیکن عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے اور مقامی پیداوار کی کمی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ، برآمدات میں کمی کی وجوہات میں عالمی اقتصادی حالات اور مقامی صنعت کی کمزوری شامل ہیں۔

اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو یہ ملکی معیشت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ برآمدات کو بڑھانے کے لیے موثر حکمت عملی اپنائے اور درآمدات میں کمی کے لیے مزید اقدامات کرے۔