اسلام آباد: ایرانی حکومت کا تختہ الٹنا ایک ایسا معاملہ ہے جس پر اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے حال ہی میں حیران کن اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد اور فوج کو ایرانی حکومت کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نیتن یاہو کا یہ اعتراف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسرائیل ایرانی حکومت کے خلاف اپنی حکمت عملی کو مزید فعال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
نیتن یاہو نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ان کی حکومت کا مقصد ایران کی جوہری صلاحیتوں کو محدود کرنا اور اس کے اثر و رسوخ کو کم کرنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موساد اور فوج کو ایرانی حکومت کے خلاف کارروائیوں کے لیے مکمل آزادی دی گئی ہے۔ یہ اقدام اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ ایران کی سرگرمیاں خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہی ہیں۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ ان کی حکومت ایرانی حکومت کے خلاف مختلف طریقوں سے کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کسی بھی صورت میں ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ نیتن یاہو کا یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسرائیل کی حکمت عملی میں ایرانی حکومت کے خلاف سخت اقدامات شامل ہیں۔
یہ اعتراف بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں مختلف ممالک نے اسرائیل کے اس اقدام پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات خطے میں مزید کشیدگی پیدا کر سکتے ہیں۔ نیتن یاہو کی حکومت کی یہ حکمت عملی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اسرائیل اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔