کراچی: اسٹیٹ بینک کا فیصلہ، شرح سود بڑھا کر 12 فیصد کردی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی تازہ ترین مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا ہے، جس کے بعد پالیسی ریٹ 11.5 فیصد سے بڑھ کر 12 فیصد ہوگیا ہے۔ یہ فیصلہ معیشت کی موجودہ صورتحال اور مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے گورنر نے اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ اور مالی استحکام کو برقرار رکھنے کی ضرورت نے اس اقدام کی ضرورت کو جنم دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام معیشت کی بحالی کے لیے ضروری ہے تاکہ مالیاتی نظام میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کا یہ فیصلہ کاروباری سرگرمیوں پر اثر انداز ہوگا، خاص طور پر ان شعبوں میں جو قرضوں پر انحصار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ فیصلہ عوامی سطح پر بھی مہنگائی کے اثرات کو بڑھا سکتا ہے، جس سے عام آدمی کی زندگی متاثر ہوگی۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک میں اقتصادی چیلنجز بڑھ رہے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اسٹیٹ بینک کا یہ اقدام معیشت کی بحالی کے لیے ایک اہم قدم ہے، لیکن اس کے اثرات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہوگا۔