نئی مانیٹری پالیسی

نئی مانیٹری پالیسی: شرح سود میں اضافے کا امکان

کراچی: نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں اضافے کا امکان ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اہم اجلاس آج منعقد ہوگا، جس کی صدارت گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کریں گے۔ یہ اجلاس ملک کی اقتصادی صورتحال اور مالیاتی استحکام کے حوالے سے اہم فیصلے کرنے کے لیے بلایا گیا ہے۔

<pاجلاس میں مختلف اقتصادی ماہرین اور بینکنگ کے اعلیٰ عہدیداران شریک ہوں گے، جو موجودہ مالیاتی چیلنجز کا تجزیہ کریں گے۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، حالیہ مہینوں میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے شرح سود میں اضافے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر شرح سود میں اضافہ کیا جاتا ہے تو اس کا اثر قرضوں کی قیمتوں پر پڑے گا، جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ تاہم، اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہو سکتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اجلاس میں یہ بھی زیر غور آئے گا کہ آیا موجودہ مالیاتی پالیسی کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔

حکومت کی جانب سے اقتصادی اصلاحات کے سلسلے میں یہ اجلاس ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا تو اس کے اثرات معیشت پر دور رس ہوں گے۔ اس کے علاوہ، بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی جانب سے بھی اس اقدام کی نگرانی کی جائے گی۔