تل ابیب: نیتن یاہو انتخابات میں ہار چکے ہیں، یہ دعویٰ اسرائیلی اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ نے کیا ہے۔ آئزنکوٹ کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کی ٹیم انتخابی نتائج کو غیر معتبر قرار دینے کے لیے ایک منظم مہم چلا رہی ہے۔ ان کے مطابق، نیتن یاہو کے بیانات پہلے سے تیار کردہ تھے، جو کہ ان کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
گادی آئزنکوٹ نے مزید کہا کہ نیتن یاہو کی حکومت کی جانب سے عوامی اعتماد کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ انتخابی نتائج عوام کی حقیقی مرضی کی عکاسی کرتے ہیں اور ان کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ آئزنکوٹ نے نیتن یاہو کی جانب سے الزامات کی سختی سے مذمت کی اور کہا کہ یہ جمہوری عمل کے خلاف ہیں۔
اسرائیلی اپوزیشن رہنما نے یہ بھی کہا کہ نیتن یاہو کی حکومت کی ناکامیوں کی وجہ سے عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی آواز بلند کریں اور جمہوری اصولوں کا دفاع کریں۔ آئزنکوٹ کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب اسرائیل میں سیاسی عدم استحکام کی صورتحال جاری ہے۔
یہ صورتحال اسرائیلی سیاست میں ایک نئے دور کی شروعات کی علامت ہو سکتی ہے، جہاں عوامی رائے کو اہمیت دی جائے گی۔ آئزنکوٹ کے اس دعوے نے نیتن یاہو کی حکومت کے مستقبل پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔