تجارتی جہازوں پر حملے

تجارتی جہازوں پر حملے: پاکستان کی بحری سلامتی کی تشویش

اسلام آباد: تجارتی جہازوں پر حملے نے پاکستان کی بحری سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ پاکستان نے آبنائے باب المندب میں حوثی ملیشیا کی جانب سے تجارتی اور دیگر بحری جہازوں پر حملوں کی سخت مذمت کی ہے۔ اس موقع پر اسلام آباد نے سعودی عرب کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

یمن میں حوثی ملیشیا نے حالیہ ہفتوں میں بحیرہ احمر اور باب المندب میں تجارتی جہازوں کے ساتھ ساتھ سعودی عرب میں توانائی اور شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں ایک وسیع علاقائی تنازع کے خدشات بڑھ گئے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب امریکہ اور اسرائیلی افواج نے تین نومبر کو امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کے منصوبے تیار کر لیے ہیں۔

سمندری ٹریفک میں خلل اور آبنائے ہرمز اور باب المندب میں تجارتی جہازوں پر حملوں نے اہم سمندری راستوں کی غیر محفوظ حالت اور علاقائی و عالمی سکیورٹی پر ان کے دور رس اثرات کو نمایاں کیا ہے۔ ان حملوں نے اہم سپلائی چینز کو متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے عالمی تجارت میں خلل پیدا ہو رہا ہے۔

پاکستانی مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ ان حملوں کے نتیجے میں نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی سکیورٹی کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ اس خطرے کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور بحری سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات کرے۔