اسلام آباد: مکہ دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے اعلیٰ حکام آج تہران میں ایرانی حکام سے ملاقات کریں گے۔ یہ ملاقات علاقائی ہم آہنگی پر بات چیت کے لیے منعقد کی جا رہی ہے، جس میں اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
<pخبر رساں ادارے روئٹرز نے دو ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے کہ اس اجلاس میں سعودی عرب کی نمائندگی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کریں گے جبکہ پاکستان کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر شرکت کریں گے۔ ترکی کے انٹیلی جنس چیف بھی اس اہم اجلاس میں شریک ہوں گے، جو کہ اس خطے کی سلامتی کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ ملاقات اس وقت ہو رہی ہے جب یمن کے ایران نواز حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اس پس منظر میں، یہ مذاکرات ایران اور تین ملکی بلاک کے تمام ارکان کے درمیان پہلی بار ہو رہے ہیں، جو کہ ایک مثبت پیش رفت کی علامت ہے۔
روئٹرز نے اس معاملے پر سعودی حکومت کے میڈیا آفس اور پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ سے رابطہ کیا، مگر تبصرے کے لیے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ یہ ملاقات اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ علاقائی طاقتیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔