اسلام آباد: پاکستان نے الیکٹرک گاڑیوں اور جدید توانائی کے شعبے میں بڑا قدم اٹھاتے ہوئے راولپنڈی میں ایک عظیم الشان لیتھیم بیٹری پلانٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اربوں ڈالر کے منصوبے کے لیے عسکری ملکیت کی حامل کمپنی مارگلہ ہیوی انڈسٹریز لمیٹڈ نے چینی شراکت داروں اور مقامی سرمایہ کاروں کے ساتھ باضابطہ معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس تاریخی منصوبے پر کل 2.25 ارب ڈالر لاگت آئے گی جو ملک کی صنعتی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرے گی۔
انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر حماد علی منصور کے مطابق اس فیکٹری کی تعمیر اور تجارتی پیداوار کا آغاز حکومت کی جانب سے متعلقہ پالیسی کی حتمی منظوری کے بعد چھ سے آٹھ ماہ کے مختصر عرصے میں متوقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پیش رفت پاکستان کو الیکٹرک گاڑیوں کی عالمی مارکیٹ میں متعارف کرانے کی طرف ایک انتہائی اہم پیش رفت ثابت ہوگی، جس سے نہ صرف ملکی ضرورت پوری ہوگی بلکہ صنعتی ترقی کو بھی نیا موڑ ملے گا۔
منصوبے کی تفصیلات اور تکنیکی شراکت داری
اس منصوبے کے تحت راولپنڈی میں جدید ترین لیتھیم بیٹری پلانٹ قائم کیا جائے گا، جہاں الیکٹرک بائیکس، تین پہیوں والی گاڑیوں، کاروں اور بسوں کے لیے اعلیٰ معیار کی بیٹریوں کی پیداوار ممکن ہو سکے گی۔ چینی ماہرین کی آمد سے پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی یقینی بنایا جائے گا جس سے مقامی انجینئرز اور تکنیکی عملے کی صلاحیتوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔
ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے نہ صرف پاکستان کا قیمتی زر مبادلہ بچے گا بلکہ ملکی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی واقع ہوگی۔ غیر ملکی سرمائے کی آمد سے ملکی معیشت کو استحکام ملے گا اور ہزاروں نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، جو بالخصوص راولپنڈی اور اسلام آباد کے ہنر مند نوجوانوں کے لیے ایک خوش آئند خبر ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت اور مستقبل کی حکمت عملی
پاکستان میں ماحول دوست توانائی اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے حکومت پہلے ہی مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ ایسے میں راولپنڈی میں بننے والا یہ لیتھیم بیٹری پلانٹ ملک کی انرجی مکس کو بہتر بنانے اور ایندھن کے درآمدی بل میں کمی لانے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھے گا۔ پاک چین ٹیکنالوجی تعاون کا یہ نیا رخ خطے میں صنعتی توازن کو بھی پاکستان کے حق میں بہتر بنائے گا۔
معاہدے کی رو سے، تمام قانونی اور انتظامی امور کی منظوری کے فوری بعد اراضی کی تیاری اور مشینری کی تنصیب کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ پروجیکٹ فعال ہوتے ہی خطے میں گرین انرجی اور ٹیکنالوجیکل ترقی کی نئی راہیں ہموار کرے گا، جس سے پاکستان اقتصادی خود اتفائی کی جانب گامزن ہو سکے گا۔