تہران: جعفر پناہی کی قید کے معاملے میں معروف فلم ڈائریکٹر کو حکومت پر تنقید کی وجہ سے 5 سال کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ فیصلہ ایران کی عدالت نے سنایا، جہاں پناہی کو حکومت کے خلاف سرگرمیوں اور ریاستی نظام پر تنقید کے الزامات کا سامنا تھا۔
عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، جعفر پناہی کی یہ سزا ان کی فنکارانہ آزادی اور اظہار رائے کے حق پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ پناہی، جو کہ بین الاقوامی سطح پر اپنی فلموں کے لئے مشہور ہیں، نے ہمیشہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے سماجی مسائل کو اجاگر کیا ہے۔ ان کی فلمیں اکثر ایرانی معاشرتی حقیقتوں کی عکاسی کرتی ہیں، جو کہ حکومت کے لئے ناپسندیدہ ہو سکتی ہیں۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایران میں اظہار رائے کی آزادی پر پابندیاں بڑھ رہی ہیں۔ پناہی کی قید نے نہ صرف ان کے مداحوں بلکہ عالمی فنکاروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں میں بھی تشویش پیدا کی ہے۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ سزا ایک انتقامی کارروائی ہے، جو کہ حکومت کی جانب سے فنکاروں کی آواز کو دبانے کی کوشش ہے۔
پناہی کی قید کے خلاف احتجاجات بھی شروع ہو چکے ہیں، جہاں فنکار اور سماجی کارکن ان کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ واقعہ ایرانی حکومت کی جانب سے فنکاروں کے خلاف سخت اقدامات کی ایک اور مثال ہے، جو کہ عالمی سطح پر تنقید کا باعث بن رہا ہے۔