اسلام آباد: انگور اڈہ سرحدی جھڑپ میں ہر قسم کا اسلحہ استعمال ہو رہا تھا، جس پر پاکستانی اور افغان حکام کے بیانات میں واضح اختلاف موجود ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر حملے شروع کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب دونوں طرف سے سرحدی علاقے میں فوجی موجودگی میں اضافہ کیا گیا۔
<pپاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نے بلا provocation فائرنگ کی، جبکہ افغان حکام نے اس کے برعکس دعویٰ کیا کہ پاکستانی فوج نے پہلے حملہ کیا۔ اس صورتحال نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
یہ جھڑپیں اس وقت ہو رہی ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان سرحدی سیکیورٹی کے مسائل پر بات چیت جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی جھڑپیں نہ صرف علاقائی سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ دونوں ممالک کے تعلقات پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔
حکومت پاکستان نے اس واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔ اس کے علاوہ، مقامی آبادی کی حفاظت کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔