ایران جوہری معاملہ

ایران جوہری معاملہ: مطالبات کی منظوری پر بات ہو سکتی ہے، محسن رضائی

تہران: ایرانی قومی سلامتی کونسل کے اہم رہنما محسن رضائی نے واضح کیا ہے کہ ایران جوہری معاملہ پر امریکہ کے ساتھ بات چیت صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ایران کے تمام قانونی اور بنیادی مطالبات مکمل طور پر تسلیم کیے جائیں گے۔ انہوں نے امریکی نائب صدر کے حالیہ خط کے نرم اور تبدیل شدہ لہجے کو ایرانی عوام کی استقامت اور تاریخی کامیابی قرار دیا۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق تہران میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محسن رضائی کا کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے بھیجے گئے پیغام سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن کا سخت مؤقف اب نرمی میں بدل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں دھمکی آمیز زبان استعمال کرنے والی امریکی قیادت اب احترام اور مذاکرات کے راستے پر گامزن ہونے پر مجبور ہو چکی ہے۔

محسن رضائی نے زور دے کر کہا کہ ایران جوہری معاملہ صرف اور صرف باہمی احترام، پابندیوں کے خاتمے اور ضمانتوں کی فراہم پر ہی آگے بڑھ سکتا ہے۔ اگر امریکہ واقعی تنازع کا پرامن حل چاہتا ہے تو اسے پہلے ایران کے خلاف عائد کردہ غیر قانونی اقتصادی پابندیاں ختم کرنا ہوں گی تاکہ اعتماد کی بحالی ممکن ہو سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تہران اپنے ایٹمی پروگرام کے پرامن مقاصد اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ عالمی برادری کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے ایران سے کوئی فیصلہ نہیں کروایا جا سکتا۔ ایرانی قوم نے دہائیوں سے مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی خودداری اور خودمختاری کا تحفظ کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ محسن رضائی کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران جوہری معاملہ پر آئندہ چند ہفتوں میں سفارتی پیش رفت ہو سکتی ہے۔ تاہم، اس کے لیے امریکہ کو عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ اگر واشنگٹن کی طرف سے مثبت اور سنجیدہ قدم نہ اٹھایا گیا تو محض الفاظ کی تبدیلی سے کسی بریک تھرو کی امید نہیں کی جا سکتی۔

واضح رہے کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جے سی پی او اے کی بحالی کے لیے جاری کوششیں طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہیں۔ عالمی برادری کی نظریں اس بات پر ٹکی ہیں کہ آیا امریکہ اور ایران کے مابین موجودہ تناؤ میں کمی آئے گی اور کیا ایران جوہری معاملہ کسی حتمی اور پائیدار معاہدے پر پہنچ سکے گا یا نہیں۔