ایران کی زمینی تجارت

ایران کی زمینی تجارت روکنے کا امریکا کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: ایران کی زمینی تجارت روکنے کے لیے امریکا نے ایک نئی ٹاسک فورس بنانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام ایران پر جاری بحری ناکہ بندی کے بعد کیا گیا ہے، جس کا مقصد تہران کی جدید اسلحہ کی ترسیل کو روکنا ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے یہ فیصلہ عالمی سطح پر ایران کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

<pامریکا کی یہ نئی حکمت عملی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ ایران کی عسکری قوت کو کمزور کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کے لیے تیار ہے۔ اس ٹاسک فورس کا قیام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ اپنی کشیدگی کو مزید بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

<pایران کی جانب سے اس اقدام پر شدید تنقید کی گئی ہے، اور ایرانی حکام نے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات اس کی خودمختاری کو متاثر کر رہے ہیں اور وہ اس کے خلاف سخت جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

<pیہ صورتحال عالمی سطح پر ایک نئی کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں جہاں ایران کی سرگرمیاں ہمیشہ سے ہی متنازع رہی ہیں۔ امریکا کی یہ نئی ٹاسک فورس ایران کی زمینی تجارت کو محدود کرنے کے لیے مختلف حکمت عملیوں پر عمل درآمد کرے گی، جس میں ان راستوں کی نگرانی شامل ہوگی جن کے ذریعے ایران اسلحہ کی ترسیل کرتا ہے۔