پاکستانی بینکوں پر سائبر حملے

پاکستانی بینکوں پر سائبر حملے، عام آدمی کیا کرے؟

اسلام آباد: پاکستانی بینکوں پر سائبر حملے کا خطرہ بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عام شہری چند احتیاطی تدابیر اختیار کر کے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں ہیکرز کی جانب سے بینکنگ سسٹمز، ادائیگی کے نظام اور موبائل ایپس کو نشانہ بنانے کی ممکنہ کوششوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے سائبر مجرم سسٹمز میں سکیورٹی کی خامیاں خودکار طریقے سے تلاش کر سکتے ہیں، جس سے وہ کم وقت میں زیادہ بڑے اور پیچیدہ حملے کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ اس صورتحال میں، عام لوگوں کو اپنی آن لائن سرگرمیوں میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔

ماہرین نے تجویز دی ہے کہ صارفین کو اپنے بینک اکاؤنٹس کی سیکیورٹی کو مضبوط کرنے کے لیے دو مرحلوں کی تصدیق (Two-Factor Authentication) کا استعمال کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ، غیر محفوظ وائی فائی نیٹ ورکس سے دور رہنا اور مشکوک ای میلز یا لنکس پر کلک نہ کرنا بھی اہم ہے۔

سائبر سیکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ خطرات بڑھ رہے ہیں، لیکن اگر عوام اپنی معلومات کی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات کریں تو وہ خود کو بڑی حد تک محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ اس لیے، ہر شہری کو چاہیے کہ وہ اپنی آن لائن سیکیورٹی کے بارے میں آگاہی حاصل کرے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرے۔