اسلام آباد: پاکستان کی یونیورسٹیوں میں انٹرنشپ کا لازمی ہونا طلباء کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ وفاقی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کی پارلیمانی سیکرٹری، رابعہ نسیم فاروقی نے پیر کو قومی اسمبلی میں اس بات کی تصدیق کی کہ یہ شرط ملک کی تمام 282 سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں پر لاگو ہوگی۔ یہ اقدام 2023 میں متعارف کرایا گیا تاکہ طلباء کو عملی تجربہ فراہم کیا جا سکے۔
رابعہ نسیم فاروقی نے سوالات کے جواب دیتے ہوئے بتایا کہ انٹرنشپ کا یہ نظام طلباء کی تعلیمی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ عملی تجربہ حاصل کرنے سے طلباء کی مہارتوں میں اضافہ ہوگا اور وہ اپنے منتخب شعبوں میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں گے۔ یہ فیصلہ حکومت کی جانب سے نوجوانوں کی ترقی کے لیے اٹھایا گیا ایک اہم اقدام ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ انٹرنشپ کی شرط کا مقصد طلباء کو نہ صرف تعلیمی میدان میں بلکہ عملی زندگی میں بھی کامیاب بنانا ہے۔ اس کے ذریعے طلباء کو مختلف شعبوں میں کام کرنے کا موقع ملے گا، جس سے ان کی پیشہ ورانہ مہارتوں میں اضافہ ہوگا۔ حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ اقدام ملک کی تعلیمی نظام میں بہتری لانے کے لیے ضروری ہے۔
آخر میں، یہ کہنا ضروری ہے کہ انٹرنشپ کا یہ نظام طلباء کے لیے ایک نیا موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی تجربہ بھی حاصل کریں۔ اس سے نہ صرف ان کی قابلیت میں اضافہ ہوگا بلکہ وہ مستقبل میں بہتر ملازمت کے مواقع بھی حاصل کر سکیں گے۔