انسٹاگرام لانگ ویڈیو

انسٹاگرام لانگ ویڈیو فیچر متعارف: یوٹیوب اور ٹک ٹاک کو بڑا چیلنج

اسلام آباد: سوشل میڈیا کی مشہور ترین تصویر اور ویڈیو شیئرنگ ایپ نے ایک نیا دھماکے دار اقدام کرتے ہوئے انسٹاگرام لانگ ویڈیو کا نیا فیچر ‘فیچرز’ کے نام سے ازخود آزمائشی طور پر متعارف کروانا شروع کر دیا ہے۔ اس نئی تبدیلی کے بعد صارفین اب انسٹاگرام پر 90 منٹ تک طویل ویڈیو مواد اپ لوڈ کر سکیں گے، جو کمپنی کی سابقہ پالیسی سے ایک مکمل انحراف کو ظاہر کرتا ہے۔

یوٹیوب اور ٹک ٹاک کے ساتھ براہ راست مقابلہ

انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری اور نائب صدر ٹیسا لائنز نے 26 اکتوبر 2026 کو اس نئی پیش رفت کا باضابطہ اعلان کیا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ویڈیو سٹریمنگ کی دنیا میں اپنے حریف پلیٹ فارمز خصوصاً یوٹیوب اور ٹک ٹاک کے واچ ٹائم پر قبضہ کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق انسٹاگرام کا یہ اقدام شارٹ فارم ویڈیو کے مقابلے میں لانگ فارم ویڈیو مواد کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے۔

یہ فیصلہ انسٹاگرام کی تاریخ میں ایک غیر معمولی موڑ کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ ماضی میں انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری طویل دورانیے کی ویڈیوز کی شدید مخالفت کرتے رہے ہیں اور ان کا موقف تھا کہ پلیٹ فارم کو صرف مختصر اور فوری ویڈیوز تک ہی محدود رہنا چاہیے۔ تاہم، اب انسٹاگرام لانگ ویڈیو کو اپنے نظام میں شامل کر کے پلیٹ فارم کو مکمل طور پر ایک نیا رخ دیا جا رہا ہے۔

نئے فیچر کی خصوصیات اور ویڈیو تخلیق کاروں کے لیے مواقع

صنعتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 90 منٹ طویل ویڈیو فارمیٹ کے ذریعے انسٹاگرام اب پوڈکاسٹ، فلمی تجزیوں، سبق آموز ڈاکیومنٹریز اور طویل دورانیے کے انٹرویوز کے لیے بھی بہترین پلیٹ فارم بن جائے گا۔ اس سے قبل انسٹاگرام کی ریلز صرف چند منٹ کے مواد تک محدود تھیں، جس کی وجہ سے ویڈیو بنانے والے گہرے اور تفصیلی موضوعات کے لیے یوٹیوب کا رخ کرتے تھے، لیکن اب حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔

نئے فیچر کے ذریعے کنٹینٹ کریئیٹرز کے لیے آمدنی کے مواقع میں بھی زبردست اضافہ ہونے کی توقع ہے۔ ویڈیو کی طویل مدت کی وجہ سے انسٹاگرام میں مڈ رول اشتہارات اور اسپانسرشپ کی گنجائش بڑھ جائے گی، جس سے نہ صرف کریئیٹرز کو مالی فائدہ ہوگا بلکہ میٹا کے اشتہاراتی محصولات میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

ڈیجیٹل میڈیا کی دنیا میں ایک بڑا انقلاب

ٹیکنالوجی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ انسٹاگرام لانگ ویڈیو کی آمد سے یوٹیوب اور ٹک ٹاک دونوں ہی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر وہ کریئیٹرز جو یوٹیوب پر لمبی ویڈیوز پوسٹ کرتے تھے، اب اپنے مواد کو بغیر کسی تبدیلی کے انسٹاگرام پر بھی باآسانی پوسٹ کر سکیں گے، جس سے انسٹاگرام پر صارفین کے وقت گزارنے کے تناسب میں ریکارڈ اضافہ ہو سکتا ہے۔

فی الحال اس فیچر کو دنیا بھر کے مخصوص صارفین کے ساتھ آزمایا جا رہا ہے اور مثبت نتائج سامنے آنے کے بعد اسے تمام صارفین کے لیے عام کر دیا جائے گا۔ اس نئی پیش رفت نے سوشل میڈیا مارکیٹنگ، بلاگنگ اور انٹرٹینمنٹ کی صنعت میں ہلچل مچا دی ہے اور آئندہ دنوں میں اس کے اثرات مزید واضح ہوں گے۔