اسلام آباد: سونے اور چاندی کی قیمتیں آج مارکیٹ کے آغاز پر بڑھ گئیں، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں رکاوٹ نے قیمتی دھاتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ پیدا کیا ہے۔ حال ہی میں صدر ٹرمپ نے تہران سے تاریخی تنازعات کے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے، جس نے جاری امن مذاکرات کو مؤثر طور پر منجمد کر دیا ہے۔
یہ اچانک تعطل ہارموز کی خلیج کو دوبارہ کھولنے کی فوری امیدوں کو ختم کر دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جو نئی مہنگائی کے خدشات کو جنم دیتا ہے۔ سرمایہ کاروں کی بے چینی کے باعث سونے اور چاندی کی خریداری میں تیزی آئی ہے، جس سے ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 1,800 ڈالر فی اونس کے قریب پہنچ گئی ہے، جبکہ چاندی کی قیمت بھی 24 ڈالر فی اونس کے قریب ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی سرمایہ کاری کی حکمت عملیوں پر دوبارہ غور کریں۔
اس کے علاوہ، عالمی اقتصادی حالات اور جغرافیائی کشیدگیوں کے اثرات بھی قیمتی دھاتوں کی قیمتوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ اگرچہ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جاری ہے، لیکن سونے اور چاندی کی قیمتوں میں یہ اضافہ سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم اشارہ ہے کہ انہیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔