مظفر نگر: جبری مشقت کے متاثرین نے اپنی دردناک کہانی سناتے ہوئے بتایا کہ انہیں دو سال تک ایک فیکٹری میں قید رکھا گیا۔ اتر پردیش کے ضلع مظفر نگر میں 12 مزدوروں کو بازیاب کرایا گیا، جنہوں نے میڈیا کے سامنے اپنی تکلیف دہ حالت کا ذکر کیا۔ متاثرین نے بتایا کہ انہیں ڈنڈوں اور بلیٹ سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ان کی جسمانی حالت بہت خراب ہو گئی تھی۔
مزدوروں نے کہا کہ انہیں روزانہ کی بنیاد پر سخت مشقت کرنی پڑتی تھی، اور ان کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی گئی ہے۔ متاثرین نے بتایا کہ انہیں کھانے پینے کی بنیادی سہولیات بھی فراہم نہیں کی گئیں، جس کی وجہ سے ان کی صحت متاثر ہوئی۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، یہ مزدور کئی مہینوں سے اس فیکٹری میں قید تھے اور انہیں کسی بھی قسم کی آزادی نہیں دی گئی۔ ان کی بازیابی کے بعد، مقامی انتظامیہ نے اس معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔
یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انسانی مشقت کے خلاف قوانین کی پاسداری کی ضرورت ہے۔ متاثرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے ساتھ ہونے والے مظالم کی تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔