مظفر نگر: مزدوروں پر تشدد کی لرزہ خیز داستان سامنے آئی ہے، جہاں اتر پردیش کے مظفر نگر میں دو سال سے جبری مشقت کرنے والے 12 مزدوروں کو بازیاب کرایا گیا۔ متاثرین نے میڈیا کے سامنے اپنی دردناک کہانیاں بیان کیں، جن میں ڈنڈوں اور بلیٹ سے ہونے والے تشدد کی تفصیلات شامل تھیں۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، یہ مزدور ایک فیکٹری میں قید تھے جہاں انہیں سخت حالات میں کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا تھا۔ متاثرین نے بتایا کہ انہیں روزانہ کی بنیاد پر جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا، جس کی وجہ سے ان کی صحت بگڑ گئی تھی۔ ان مزدوروں کی بازیابی کے بعد، مقامی انتظامیہ نے اس معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
مزدوروں نے بتایا کہ انہیں بھوک اور پیاس کی حالت میں کام کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا، اور اگر وہ کام کرنے میں ناکام رہتے تو انہیں سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔ یہ واقعہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ایک اور مثال ہے، جس پر فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔
اس واقعے نے نہ صرف متاثرہ مزدوروں کی زندگیوں کو متاثر کیا بلکہ معاشرتی انصاف کے نظام پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کرے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کرے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔