اسلام آباد: ڈیموکریٹک سینیٹ امیدوار عبدالسید پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کی جانے والی سخت تنقید نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ٹرمپ نے اپنی ایک حالیہ تقریر میں عبدالسید کو متنازعہ الفاظ سے یاد کرتے ہوئے انہیں ’جہادی‘ قرار دیا، جس پر مختلف سیاسی رہنماوں اور عوام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، ٹرمپ نے مشی گن میں ایک انتخابی مہم کے دوران عبدالسید کے بارے میں کہا کہ ان کی پالیسیوں سے ملک کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عبدالسید کی مسلم شناخت اور ان کے خیالات امریکی اقدار کے خلاف ہیں۔ یہ بیان اس وقت آیا جب عبدالسید نے اپنی انتخابی مہم میں عوامی مسائل جیسے صحت کی سہولیات اور تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے وعدے کیے تھے۔
عبدالسید نے ٹرمپ کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ تنقید دراصل ان کی کامیابی سے خوفزدہ ہونے کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ اپنے ملک کی خدمت کے لیے کوشاں رہیں گے اور کسی بھی قسم کی نفرت انگیز سیاست کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے حامیوں کے ساتھ مل کر ایک مثبت تبدیلی لانے کے لیے پرعزم ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی یہ تنقید دراصل ان کی انتخابی مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد مسلم ووٹروں کو خوفزدہ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس طرح کی زبان استعمال کرنے سے ٹرمپ اپنے حامیوں کی بنیاد کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے مشی گن میں سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے، جہاں دونوں جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ عبدالسید کی مہم نے عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے مختلف پروگرامز کا آغاز کیا ہے، جبکہ ٹرمپ کی جماعت نے بھی اپنی انتخابی حکمت عملی کو مزید تیز کر دیا ہے۔